عرفہ'' کیوں کہا جاتا ہے، فقہاءا نے اس تاریخ کو “یوم عرفہ” کہنے کی تین وجوہات ذکر کی ہیں: (۱) نو ذو الحجہ کو حج کرنے والے میدانِ عرفات میں وقوف کرتے ہیں
عرفات کے میدان میں ظہر اور عصر اگر امام کے ساتھ نہیں پڑھ سکے تو
حج کا کوئی رکن رہ جائے تو کیا حکم ہے؟
جبلِ رحمت پر چڑھنا اور دعا کرنا
اگر کوئی وقوف عرفہ کے بعد اور طواف زیارت سے پہلے مرگیا
حج کے ارکان کتنے ہیں؟
حج کے فرائض اور ان کے دلائل
یوم ترویہ، یوم عرفہ، یوم نحر اور ایام تشریق کی وجہ تسمیہ
حالت حیض میں حج و عمرہ کا طریقہ
کی صبح صادق کے درمیان میدانِ عرفات میں ٹھہرنا، چاہے کچھ ہی دیر کے لیے ٹھہرے۔ (یہ حج کا رکنِ اعظم ہے، اگر کسی نے وقوفِ عرفہ نہ کیا، اس کا حج ہی نہیں ہوگا