سوال: چھوٹا بھائی اور والدہ محترمہ اس سال اللہ کے فضل سے حج میں جا رہے ہیں۔ چھوٹا بھائی چاہتا ہے کہ وہ والد مرحوم کے بدلے حج کرے۔ جبکہ بھائی نے کبھی بھی حج نہیں
حجِ بدل کے لیے حجِ تمتع ضروری ہوگا؟آفاقیوں کے لیے عموماً قران مشکل ہوتا ہے۔لہذا اس کی کیا صورت ہوگی؟
حج بدل کون کر سکتا ہے؟ آیا جس نے حج کیا ہے وہ بہتر ہے یا جس نے حج نہیں کیا اور اس کی خواہش ہے کہ میں کروں،تو کون بہتر ہوگا؟