جو شخص میقات کی حدود سے باہر رہائش پذیر ہو اس کے لئے افضل یہ ہے کہ وہ حج قران کرے یا قران نہ کرسکتا ہو تو حج تمتع کرے،کیونکہ سب سے افضل حج قران ہے
جس نے شوال میں عمرہ كیا ہو کیا وہ کسی اور کی طرف سے نفلی حج بدل
سے حج مکمل ہوگیا ہے، مکہ مکرمہ سے وطن واپس آتے وقت طوافِ وداع کر کے آئے، یہ طواف واجب ہے۔ نوٹ: تمتع کے لیے آفاقی یعنی میقات سے باہر رہنے والا ہونا شرط ہے
سعودیہ میں مقیم آفاقی کونسا حج کرے
حج بدل کے سلسلہ میں - دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
میقات کے اندر رہنے والوں کے لیے تمتع نہیں ہے
میں اپنے مرحوم والد کا حج بدل کرنا چاہتا ہوں - دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
جس نے حج نہ كیا ہو كیا وہ كسی اور كی طرف سے حج بدل كے لیے جاسكتا ہے؟